ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / طالبان نے مجوزہ علماء کانفرنس مسترد کر دی

طالبان نے مجوزہ علماء کانفرنس مسترد کر دی

Wed, 09 Nov 2016 15:33:58    S.O. News Service

کابل،9؍نومبر(ایس او نیوز ؍آئی این ایس انڈیا)افغانستان کے چیف ایگزیکٹو ڈاکٹرعبداللہ عبداللہ نے افغان حالات وواقعات پر ایک علماء کانفرنس کی تجویزپیش کی ہے۔انہوں نے یہ تجویز سعودی عرب کے دورے کے دوران پیش کی تھی۔ اس تجویز کو طالبان نے مستردکردیاہے۔آج افغان طالبان کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ عالم اسلام کے علماء یقینی طورپرکسی بین الاقوامی میٹنگ میں شریک ہوں لیکن ان سے یعنی طالبان سے یہ توقع نہیں کی جا سکتی کہ وہ اجتماعی طور پرافغانستان میں مغرب کی حمایت یافتہ حکومت کو جائز قرار دیتے ہوئے اُس کی کلی طور پر حمایت کریں گے۔افغانستان کے پرتشدد حالات و واقعات کے تناظر میں کابل حکومت کے چیف ایگزیکٹو ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ نے گزشتہ ماہ اکتوبر میں اپنے سعودی عرب کے دورے کے دوران علمائے اسلام کی ایک بین الاقوامی کانفرنس کو تجویز کیا تھا۔ اس کانفرنس کے انعقاد کی کوئی حتمی تاریخ ابھی مقرر نہیں ہوئی ہے لیکن ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ کے مطابق یہ کانفرنس سعودی عرب ہی میں منعقد کی جائے۔طالبان کی جانب سے جاری ہونے والے بیان کا سرنامہ عالم اسلام کے معزز علماء رکھا گیا ہے۔ بیان کے مطابق طالبان کے جنگجو افغانستان میں مغربی قابض افواج کے خلاف اسلامی جہاد کا علم بلند کیے ہوئے ہیں اور وہ توقع کرتے ہیں کہ کانفرنس میں شریک ہونے والے اسکالرز کسی بھی طرح اس جہادی عمل کو جارحیت کا نام دیتے ہوئے اِس کی حمایت نہیں کریں گے۔اِس بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ افغانستان کے دشمن مسلسل رُوبہ زوال ہیں اور وہ اب اُن کی مسلح جہادی سرگرمیوں کے خلاف مخالفانہ پراپیگنڈے کا منظم سلسلہ شروع جاری رکھے ہوئے ہیں۔ طالبان نے مغربی اقوام کے اس عمل کو نفسیاتی جنگی حربہ قرار دیتے ہوئے اِسے ایک گمراہ کن سازش قرار دیا ہے۔ بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ اُن کے مخالفین اب ایسی غیر مسلح سرگرمیوں کا سلسلہ شروع کیے ہوئے ہیں جو قطعی طورپرنامناسب ہیں اور اس کوشش میں جھوٹی سازشی کارروائیوں کے علاوہ جعلی فتووں کاسہارالیاجارہاہے۔طالبان نے یہ بھی کہا ہے کہ ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ کی تجویز کو افغانستان کی اعلیٰ امن کونسل کی حمایت بھی حاصل ہو چکی ہے اور یہ وہی ادارہ ہے جو اُن کی جائز جہادی سرگرمیوں کو تسلیم کرنے سے انکاری ہے۔ اس بیان میں طالبان نے وشگاف اندازمیں کہا کہ علماء کانفرنس میں وہ شریعت کے اصولوں کی غلط تشریح کر کے اُن کے اسلامی جہاد کے عمل کوغلط ثابت کرنے کی کوشش کریں گے۔


Share: